غذا کی اہمیت اور تعارف

Home/Healthy Eating, Urdu Recipes/غذا کی اہمیت اور تعارف

غذا کی اہمیت اور تعارف

 

 

غذا کی اہمیت اور تعارف

غذا ہر جاندار کے لئے بے حد ضروری ہے۔ غذا جسم میں ایندھن کا کام کرتی ہے۔ اس سے صرف بھرنے کا کام ہی نہیں لینا چاہئے بلکہ ایسی غذا کا انتخاب کرنا چاہیے جو ہمارے جسم کو بھرپور توانائی بھی فراہم کرے۔ غذا مناسب ہو تو جسم کا نظام بھی درست رہتا ہے۔

غذا اور صحت لازم و ملزوم ہیں۔ غذا کے پکانے اور کھانے میں احتیاط ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کا نظام عجیب بنایا ہے۔ اس میں ٹھوس اور سیال دونوں مادے موجود ہیں۔ دانت، ہڈیاں، کھوپڑی سخت ہیں تو خون رقیق مادہ ہے۔ دل، جگر، گردے نرم اعضا٫ ہیں۔ بنیادی طور پر جسم خلیوں سے بنا ہے اور یہ خلیہ ہی حیات کی اکائی ہے۔ خلیے ٹوٹتے رہتے ہیں، ان کی مرمت بھی ہوتی ہے اور نئے خلیے بھی بنتے رہتے ہیں۔ ان خلیوں کی تعمیر و مرمت کے لئے غذا انتہائی اہم ہے۔

اسلامی طب پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ غذا کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ غذا سے علاج کیا گیا پھر دوسرے نمبر پر جڑی بوٹیاں ہیں۔

رسول کریمؐ کے پاس اس وقت کے مدینہ منورہ کے طبیب آئے اور کہا کہ ہمارے پاس کوئی مریض نہیں آتا ہم بے کار بیٹھے رہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ لوگ پیٹ پوری طرح بھرنے سے قبل کھانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ان کی صحت مندی کا راز کم خوری ہے۔ آپؐ نے فرمایا معدہ انسانی جسم میں حوض کی مانند ہے، اس سے نالیاں جسم کے مختلف حصّوں میں جاتی ہیں، اگر معدہ تندرست ہو گا تو یہ نالیاں صحت مند اشیا٫ لے کر جائیں گی ورنہ یہ نالیاں بیماری لے کر جائیں گی۔

طب جدید نے اسلام کی سینکڑوں برس پہلے کی گئی ان باتوں کو سو فیصد درست قرار دیا ہے۔ آج کے ڈاکٹر بھی غذا کو صحت کے لئے مفید قرار دیتے ہیں۔

بقراط نے بھی بیماریوں کے علاج کو غذا سے ٹھیک کرنے کی تلقین کی تھی۔

ایک کہاوت کے مطابق موت کے دس اسباب ہیں جن میں سے چھ غذا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو لوگ متوازن سادہ غذا کھاتے ہیں وہ لمبی اور صحت مند زندگی پاتے ہیں۔ لہسن اور پیاز زمانہ قدیم سے غذا کا جزو رہے ہیں۔ اہرام مصر کی تعمیر کے زمانے میں مزدوروں کو خاص طور پر لہسن و پیاز کھلائی جاتی تھی تاکہ وہ تندرست و توانا رہیں اور خوب کام کر سکیں۔

لہسن و پیاز صحت کے لئے بہت اہم ہیں۔ یہ ہائی بلڈ پریشر سے بچاتے ہیں۔ خاص طور پر لہسن دائمی نزلہ زکام سے بچاتا ہے۔ اسے کچا کھایا جائے تو بہت مفید ہے۔ خون کی نالیوں کو کشادہ کرتا ہے۔ خون کو پتلا رکھتا ہے۔ دل کے حملے سے بچاتا ہے۔ بھوننے سے اس کی افادیت میں قدرے کمی آ جاتی ہے۔

لہسن پیاز کے بعد تمام سبزیاں قدرت کا ایک عظیم تحفہ ہیں۔ ان میں پروٹین سے لے کر فلاور، کیلشیم اور تیل شامل ہوتا ہے اور وہ خاص جز بھی شامل ہے جو چربی اور تیل کو جسم میں “حیاتین الف” میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس حیاتین کی کمی سے آنکھیں متاثر اور بینائی میں کمی ہوتی جاتی ہے۔

غذا سے اگر زندگی کی بقا٫ ہے تو اس کی زیادتی صحت کے لئے خطرناک بھی ہے۔ “ذیابیطس” )شوگر ( کے مرض کی ایک اہم وجہ بسیار خوری بھی ہے۔ اس مرض پر غذا کو کنٹرول کرنے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

غذا کی بھی قسمیں ہیں۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق غذا کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر ایک کی اپنی اپنی افادیت اور اہمیت ہے۔ توانائی دینے والی غذا میں کاربو ہائیڈریٹ سر فہرست ہے۔ یہ ہمیں نشاستہ، آلو، دلیا، شکر، مٹھائیاں، مربے، شربت، چاول وغیرہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ ان کا استعمال اعتدال سے کرنا چاہیے۔

پروٹین (PROTEIN)

پروٹین سے ہمارا جسم قوت حاصل کرتا ہے۔ یہ جسم میں نئے ٹشو بناتی اور پرانے ٹشووں کی جگہ پر کرتی ہے۔ پروٹین ہمیں جانوروں اور سبزیوں سے حاصل ہوتی ہے۔ گوشت، مچھلی، مرغی، پنیر، انڈے اور دودھ وغیرہ سے سبزیوں کی نسبت زیادہ پروٹین ملتی ہے۔ چونکہ گوشت وغیرہ سے جو پروٹین حاصل ہوتی ہے وہ عام متوسط یا غریب آدمی آسانی سے برداشت نہیں کر سکتا اس لئے وہ سبزیوں سے با آسانی پروٹین حاصل کر سکتا ہے۔ مٹر، پھلیاں، دالیں اور خشک میوہ جات میں وافر پروٹین پائی جاتی ہے۔ مختلف غذاؤں میں مختلف معیار کی پروٹین پائی جاتی ہے۔

گیہوں کا آٹا، دالیں اور چاول میں پائی جانے والی پروٹین سے جسم کو حرارت اور قوت ملتی ہے۔ جسمانی نشوونما کے لئے پروٹین بے حد اہم ہے۔ جن بچوں کو پروٹین نہیں ملتی ان کے قد اور وزن نہیں بڑھتے۔ پروٹین جسم میں شکر کو متناسب درجہ پر قائم رکھتی ہے۔ اس سے صحت ٹھیک رہتی ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ جسم میں آکسیجن کی شمولیت کی رفتار باقاعدہ رہتی ہے۔ اس کی کمی سے خون کے سرخ ذرات جو پھیپھڑوں سے آکسیجن جسم کے مختلف حصوں کو مہیا کرتے ہیں، ان کی تعداد بہت کم ہو جاتی ہے۔

پروٹین کے لفظی معنی “اولین مقام والے” ہیں۔ غذا میں اسے اول مقام حاصل ہے۔ یہ ہر عمر کے لئے لازمی ہے۔ پروٹین کی کمی سے جہاں بچوں کی نشوونما نہیں ہوتی، خون کی کمی رہتی ہے۔ قد نہیں بڑھتا، اسی طرح بڑوں میں پاوَں پر سوجن نمایاں لگتی ہے۔ جسم میں نا توانائی سی رہتی ہے۔ ایک بالغ آدمی کو روزانہ دو گلاس دودھ، ایک انڈا، پنیر، دال، مغزیات وغیرہ استعمال کرنے چاہیے۔ لسی بھی بہت مفید مشروب ہے جو ہر عمر کے لوگوں کے لئے مفید ہے۔

وٹامنز (VITAMINS)

بہت تھوڑی مقدار میں وٹامنز ہمارے جسم کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ وٹامن دراصل لفظ “ویٹا امین” تھا جس کو پولینڈ کے ایک سائنس دان نے دریافت کیا۔ اس لفظ کا مطلب “زندگی اور صحت کا لازمی جز” ہے۔ بعد میں یہ وٹامن کے طور پر معروف ہوا۔ اب تک بیس سے زیادہ وٹامن دریافت ہو چکے ہیں۔ یہ قلیل مقدار میں ہونے کے باوجود انتہائی ضروری ہے۔ ان کی مثال اس طرح ہے کے جیسے گاڑی میں سارے کل پرزے درست ہوں، پٹرول بھی موجود ہو مگر گاڑی سٹارٹ کرنے کے لئے “اسپارک” کی ضرورت ہوتی ہے جس سے پٹرول جلتا ہے اور طاقت پکڑتا ہے۔ انسانی جسم میں بھی وٹامن )حیاتین( “اسپارک” کا کام دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے سے غذا جزو بدن بنتی ہے۔ وٹامن کئی قسموں کے ہیں اور ان کا حصول متوازن غذا سے ہی ممکن ہے۔ تازہ سبزیاں، پھل، انڈے، دودھ اور گوشت و مچھلی ان کا اہم ذریعہ ہیں۔

وٹامنز کا مختصر جائزہ

وٹامن اے

یہ بچوں کی نشوونما کے لئے بہت ضروری ہے۔ آنکھ کی بینائی اسی کی وجہ سے تیز ہوتی ہے۔ کھال اور جلد کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ دودھ، مکھن، پنیر، مچھلیوں اور گاجروں وغیرہ میں موجود ہوتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی سے جلد پر خشکی نمودار ہونے لگتی ہے، جو بعد میں کھجلی بن کر پورے جسم پر پھیل جاتی ہے۔ بالوں میں کھردرا پن آ جاتا ہے۔ جلد کی رنگت بدلنے لگتی ہے۔ آنکھوں کی چمک معدوم ہو جاتی ہے اور بے رونق نظر آنے لگتی ہیں۔ روشنی میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور شب کوری کا مرض بھی ہونے لگتا ہے۔ آنکھوں میں آنسو نہ آنے کا سبب بھی اس وٹامن کی کمی اور نگاہ کی کمزوری ہوتا ہے۔ پالک، بھتوا، سلاد، کرم کّلا، مٹر، خوبانی، ٹماٹر میں وٹامن اے زیادہ ہیں۔ یہ کھا کر اس مرض سے بچا جا سکتا ہے اور قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔

وٹامن بی 

    وٹامن بی کی تعداد بارہ ہے جن کے مجموعہ کو وٹامن بی کمپلیکس کہتے ہیں۔ ان کے قدرتی ذرائع یہ ہیں۔ خمیر، انڈے کی زردی، کلیجی، لوبیا، مٹر، چاولوں کی بھوسی، دالوں کی کونپلیں )دال بھگو کر رکھنے سے چند دن بعد کونپلیں پھوٹتی ہیں( ان میں وافر مقدار میں وٹامن بی پائی جاتی ہے۔ وٹامن بی کی کمی سے جسم میں سستی غالب آ جاتی ہے۔ بد ہضمی اور قبض ہوتا ہے۔ مزاج میں چڑچڑا پن زیادہ ہوتا ہے۔ اعصابی بیماریاں ہونے لگتی ہیں۔ وٹامن بی 2 کی کمی سے ہونٹ سوج کر پھٹ جاتے ہیں۔ خون بہنے لگتا ہے، آنکھوں میں پانی آنے لگتا ہے۔ پڑھنے یا ٹی وی دیکھنے سے آنکھیں بوجھل ہونے لگتی ہیں۔ باچھیں بھی کٹ جاتی ہیں۔ یہ وٹامن دودھ، کلیجی، گردے، انڈے کی زردی میں پایا جاتا ہے۔

وٹامن بی 3 اور وٹامن بی 5 یہ ہمیں جگر، کلیجی، اناج، مونگ، پھلی، بادام، انڈے، پنیر، مچھلی، دودھ، گوشت، خمیر میں ملتا ہے۔

اس کی کمی سے بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ پیٹ میں درد رہتا ہے۔ ذہن پر عجیب سا خوف و ہراس چھایا رہتا ہے۔ انسان کھویا کھویا اور بے چین رہنے لگتا ہے۔ بعض اوقات بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے اور وہم کا شکار ہونے لگتا ہے۔

وٹامن بی 5 کی کمی سے کھال کھردری ہونے لگتی ہے۔ ذہنی توازن بگڑنے لگتا ہے، پاؤں کے تلوے ہر وقت جلتے رہتے ہیں۔ بال بھی جوانی میں سفید ہونے لگتے ہیں۔ یہ ہمیں چاول کے بھوسے، مٹر، گیہوں، جو، کلیجی، دل، گردہ، انڈے کی زردی، اخروٹ، سویا بین سے حاصل ہوتا ہے۔

غذا میں بکرے کی کلیجی شامل کرنے سے بہت سی شکایات سے نجات مل جاتی ہے۔ آلو بھی ضرور کھانے چاہیں۔ بالوں کی سفیدی دور کرنے کے لئے کالے چنوں کا شوربہ ہفتے میں دو بار ضرور کھانا چاہئے۔

وٹامن بی 12

  یہ انسانی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے۔ اس کی کمی سے خون میں سرخ ذرات بڑھ جاتے ہیں، کیل مہاسے اس کی کمی سے نکلتے ہیں۔ یہ ہرے پتوں، کلیجی و گردے میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

وٹامن سی

             اچھی صحت کے لئے یہ وٹامن بہت ضروری ہے۔ اس کی کمی سے جوڑوں میں درد، مسوڑوں میں جلن، ورم اور دانتوں سے خون نکلتا ہے۔ یہ ہری ترکاریوں، گریپ فروٹ، ٹماٹر، مالٹا، املی، لیموں اور تازہ پھلوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے لہذا پھل یا سبزی ڈھانپ کر رکھیں۔

وٹامن ڈی

   اسے دھوپ کا وٹامن بھی کہتے ہیں۔ یہ وٹامن فاسفورس کے ساتھ مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی ساخت کے لئے ضروری ہے۔ مچھلی کے تیل اور دودھ والی چیزوں میں ملتا ہے۔ ہمارا جسم خود بھی وٹامن ڈی پیدا کرتا ہے۔ جب سورج کی روشنی جلد پر پڑتی ہے تو کھال کے نیچے جو چربی کی ایک تہہ ہوتی ہے اس میں موجود “ارگوسٹرال” وٹامن ڈی میں تبدیل ہو کر جمع ہوتا ہے۔ یہ پانی میں حل نہیں ہوتا چربی میں گھلتا ہے۔

اس کی کمی سے ہڈیاں نرم پڑ جاتی ہیں۔ بچوں کے دانت دیر سے نکلتے اور ٹیڑھے بد وضع نظر آتے ہیں۔ ہڈیاں سیدھی رہنے کے بجائے مڑنے لگتی ہیں۔ ایسے تنگ مکان اور گلیاں جہاں دھوپ کا گزر نہ ہوتا ہو وہاں کے رہنے والے لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔

بچوں کو وٹامن ڈی والی خوراک ضرور دینی چاہیں ورنہ ان کے قد چھوٹے اور ہڈیاں مڑی تڑی ہو جاتی ہیں۔ دھوپ کے ساتھ ساتھ خوراک میں دودھ، مکھن اور کلیجی ضرور کھلانا چاہئے۔

وٹامن ای

                یوں تو سارے وٹامن ہی ضروری ہیں مگر تحقیق سے ثابت ہو رہا ہے کہ وٹامن ای حیات بخش وٹامن ہے۔ گندم اس کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ مکئی، سویا بین، زیتون کا تیل، پستہ، گوبھی، پالک، مٹر، اخروٹ، کلیجی، انڈے کی زردی میں بھی موجود ہے۔ بغیر چھانا اناج اس وٹامن کا ایک ذریعہ ہے۔

اس کی کمی سے خون کے ذرات کم ہو جاتے ہیں۔ خواتین کو 45 سال کی عمر کے بعد دس گناہ زیادہ یہ وٹامن کھانا چاہئے۔ روزانہ 30 ملی گرام عام آدمی کو کھانا چاہئے۔ بوڑھے لوگوں کو بھی یہ وٹامن زیادہ کھانا چاہئے۔ صحت و توانائی کے لئے بے حد ضروری ہے۔ چکی کا پسا ہوا آٹا اس کے لئے نعمت ہے۔ اسے عضلات کی وٹامن بھی کہتے ہیں اور دل بھی ایک عضلہ ہے، یہ دل کے امراض میں بھی مفید ہے۔ اعصاب کو سکون ملتا ہے۔ تکان دور ہوتی ہے۔ بلڈ پریشر میں بھی مفید ہے۔ اس سے خون میں گھٹلیاں نہیں بنتیں۔ زخم پر کھرنڈ آتا ہے اور زخم جلد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے کھانے اور لگانے سے جلد کے داغ دھبے دور ہو جاتے ہیں۔

اس وٹامن کے کھانے سے پیشاب آتا ہے، لہذا استقائی کیفیت کے مریضوں کو سکون ملتا ہے۔ اس کو کھانے سے سانس نہیں پھولتا۔ خون کی بال جیسی باریک رگوں کی دیواروں کو مضبوط بناتی ہے۔ زخمی اور ٹوٹ پھوٹ والے دل کے لئے از حد ضروری ہے۔ خون کی فراہمی بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ خون کی رگیں کشادہ ہوتی ہیں اور اعصاب مضبوط ہوتے ہیں اس سے دوران خون بہتر رہتا ہے جس کے ہر عضلے اور ریشے کو آکسیجن ملتی رہتی ہے۔

اس کو توانائی اور جوانی کا وٹامن بھی کہتے ہیں۔ اسی سال سے زیادہ عمر کی باربرا کارٹ جس نے وٹامن پر ایک کتاب “بک آف یوتھ” لکھی ہے۔ وہ خود بھی اس وٹامن کی جیتی جاگتی مثال ہے جو اسی سال سے اوپر ہونے کے باوجود کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ “اس وٹامن کے مسلسل استعمال سے بڑھاپے کا عمل رک جاتا ہے، جسم سمارٹ رہتا ہے، شخصیت دلکش ہوتی ہے”

یہ وٹامن جلی اور جھلسی ہوئی جلد کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ اس وٹامن کو افزائش نسل کا وٹامن بھی کہا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے امراض کے تدارک کے لئے بھی یہ وٹامن بے حد مفید ہے۔ اس سے کمزوری اور تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔

دل کی تکالیف، دل کے درد، جگر اور گردوں کی شکایات، پاؤں کی وریدوں کا پھولنا، جلنے کے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ گویا وٹامن ای زندگی ہے، توانائی ہے اور راحت ہے۔

چکنائی (FATS)

یہ انسانی جسم کو گرمائی اور توانائی دیتی ہے۔ یہ کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے۔ یہ ہمیں مکھن، مارجرین، سبزیوں کے تیل، مچھلی کا تیل، کریم، پنیر، انڈوں اور دودھ سے حاصل ہوتی ہے۔ زیادہ چکنائی کھانے سے خون میں کولسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور دل کے امراض جنم لینے لگتے ہیں۔ پورے دن میں ایک چھٹانک )50 گرام( سے زیادہ چکنائی نہیں کھانی چاہیے۔

نمکیات (MINERALS)

یہ جسم کے نظام کو درست رکھتے ہیں۔ ہماری روز مرہ کی خوراک میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں پہلے نمبر پر لوہا (Iron) ہے جو کلیجی، گردے، دل اور انڈے وغیرہ میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آئرن کی کچھ مقدار گوشت، مچھلی، سبز پتوں والی سبزیاں، آلو اور پھلوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ آئرن جسم میں خون کے سرخ ذرات (Cells) کے بننے میں مدد دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے جسم کو آکسیجن مہیا ہوتی ہے۔

دوسرے نمبر پر کیلشیم (Calcium) اور فاسفورس (Phosphoras)  جو دانتوں اور جسم کی ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔ بچوں اور حاملہ عورتوں کے لئے بے حد ضروری ہے۔ عمر رسیدہ لوگوں کو بھی کیلشیم ضرور کھانا چاہیے کیونکہ اس عمر میں ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کو روکنے کے لئے کیلشیم ضروری ہے۔ یہ دودھ، انڈوں، مچھلی، روٹی اور سبزیوں میں ملتی ہے۔ تل بھی کیلشیم کا ایک ذریعہ ہیں اس کے علاوہ ہڈیوں کی یخنی میں بھی کیلشیم وافر اور مفت مل جاتی ہے۔

“سوڈیم” ہمارے جسم کے سیال میں نمک کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔

پانی (Water)

پانی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے۔ ایک عام آدمی کو روزانہ آٹھ سے دس گلاس پانی ضرور پینا چاہئے۔ پانی ہمارے جسم کے فاضل گندے مادے باہر نکالنے میں معاون ہوتا ہے۔

 

 

2017-03-16T11:52:04+00:00 March 16th, 2017|Healthy Eating, Urdu Recipes|0 Comments

Leave A Comment